صفحات

Saturday, 2 July 2022

اس واسطے وہ قابل دستار نہیں تھا

 اس واسطے وہ قابل دستار نہیں تھا 

وہ شخص کسی شہر کا سردار نہیں تھا 

منظر یہ مِری آنکھ نے دیکھے ہیں لگاتار 

دیوار تو تھی سایۂ دیوار نہیں تھا 

پتھر تھا محبت کو نہیں جان سکا وہ 

وہ شخص تو ہرگز مِرا دلدار نہیں تھا 

جانا ہے ہمیں لوٹ کے ہرگز نہیں رکنا 

کیا ہم نے بتایا تمہیں سو بار نہیں تھا 

حالات ہی ایسے تھے بنے ہجر کے قیدی 

چاہت سے مگر آپ کی انکار نہیں تھا 

میں خانہ بدوشوں کی طرح گھوم رہی تھی 

دنیا میں کسی سے بھی مجھے پیار نہیں تھا 

آتی ہی نہیں اس کو مِری یاد بھی زیبی

رستہ تو مِرے گاؤں کا دشوار نہیں تھا 


زیب النساء زیبی

No comments:

Post a Comment