صفحات

Saturday, 30 July 2022

اگر ہے رسم تو ہم بھی گلہ نہیں کرتے

اگر ہے رسم تو ہم بھی گِلہ نہیں کرتے

حسِین لوگ کسی سے وفا نہیں کرتے

او جانے والے انہیں بھی سمیٹ کر لے جا

بکھر کے پھول دوبارہ کِھلا نہیں کرتے

رکھے ہیں کس لیے صیاد اس قدر پہرے

یہ بِن پروں کے پرندے اڑا نہیں کرتے

ہم اس کے تیروں کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں

جو زخم اس نے دئیے ہیں گِنا نہیں کرتے

خدا کرے وہ سمجھ جائیں دل کی باتوں کو

لبوں سے ہم جو بیاں مُدعا نہیں کرتے

مِرے طبیب ہوئے مجھ سے کس قدر مایوس

دُعا تو کرتے ہیں لیکن دوا نہیں کرتے

یہ مجھ سے کہتے ہیں محفل میں جل کے پروانے

جو عشق کرتے ہیں ناصر! جِیا نہیں کرتے


حکیم ناصر

No comments:

Post a Comment