صفحات

Wednesday, 17 August 2022

ہٹا دو دوپٹہ نکاح ہو چکا ہے گمرہی سے اپنا

 ہمرہی


زمیں سنسنا رہی ہے برستا لہو ہے

چلو رقص فرما ہوں تم بھی، ہم بھی

دوپٹہ اتارو، اتارو دوپٹہ

یونہی الجھا جاتا ہے قدموں سے اپنے

حیا آ رہی، یہ کیا بلا ہے، نئی اک مصیبت

شرافت، یہ کیوں اب بھی لپٹی ہے جاتی

کوئی قرض اس کا واجب ہے تم پہ

ہٹاؤ دوپٹہ، ہٹا دو دوپٹہ 

نکاح ہو چکا ہے گمرہی سے اپنا

یہ کن چکروں میں پڑی اب بھی ہو تم

ٹھہر جاؤ تم اب، پھر ہم ملیں گے

زمیں سنسنا اٹھی ہے، اُبلتا لہو ہے

قدم تیز تر ہوں

نہیں رکنا ممکن میں جا رہا ہوں


ریحانہ احمد جاناں

No comments:

Post a Comment