میں کروں اعتبار کیا صاحب
اب بھلا ان سے پیار کیا صاحب
زندگی بیتنی تھی، بیت گئی
جوشِ فصلِ بہار کیا صاحب
جب مجھے تیرگی ہے راس بہت
چاند کا انتظار کیا صاحب
دل دھڑکتا ہے بس دھڑکتا ہے
اس پہ اب اختیار کیا صاحب
پھیکا پھیکا سا کیوں ہُوا چہرہ
دل ہُوا بے قرار کیا صاحب
لوگ ہنستے ہیں دیکھ کر تنہا
ساتھ پھر دے وہ یار کیا صاحب
عاصم تنہا
No comments:
Post a Comment