صفحات

Thursday, 18 August 2022

آنکھوں کے کنول لب کے چمن زار بہت تھے

 آنکھوں کے کنول لب کے چمن زار بہت تھے 

دیوانے مگر سیر سے بیزار بہت تھے 

ہم لوگ کڑی دھوپ کے شیدائی تھے ورنہ 

یوں سر کو چھپانے در و دیوار بہت تھے 

ہر شخص کے چہرے پہ کئی چہرے تھے چسپاں 

تجھ جیسے تِرے شہر میں عیار بہت تھے 

ٹوٹا ہوا پل ریت کی دیوار ہوا تیز 

لگتا ہے کہ بستی میں گنہ گار بہت تھے 

الفاظ ادا کرتی رہیں بولتی آنکھیں 

چپ رہ کے بھی وہ مائل گفتار بہت تھے 

آنکھوں کے دریچوں میں حیا جاگ رہی تھی 

سوئے تھے کچھ ایسے کہ وہ بیدار بہت تھے 

وہ شخص تو ہر گام پہ دیتا رہا دھوکے 

تم پھر بھی نویدؔ اس کے پرستار بہت تھے 


علی الدین نوید

No comments:

Post a Comment