صفحات

Wednesday, 17 August 2022

کیا جھجھکنا کیا لجانا رقص کر

 کیا جھجھکنا، کیا لجانا، رقص کر

اٹھ میاں! اٹھ، والہانہ رقص کر

تجھ سے کوئی کام ہونے کا نہیں

چھوڑ فکرِ آب و دانہ، رقص کر

قریہ قریہ رقص کی محفل رچا

کوچہ کوچہ دلبرانہ رقص کر

بن کے بُلھا، شاہ عنایت کو منا

پیشِ خواجہ، خسروانہ رقص کر

ہو سکے تو مندروں میں دے اذاں

مسجدوں میں کافرانہ رقص کر

اہلِ دانش سے نبھانا چھوڑ دے

جاہلوں سے جی لگا نہ، رقص کر

جاہلوں کو عقل کی باتیں سُجھا

عاقلوں میں جاہلانہ رقص کر

جس نے تیرا حال ایسا کر دیا

کیا اسے جا کر دِکھانا، رقص کر

مُفتیانہ ڈھونگ کا چوغا اتار

جنگلوں میں راہبانہ رقص کر

اے میرے اندر مچلتی مطربہ

آ کے باہر، مطربانہ رقص کر

ہولے ہولے تھرتھرانا سیکھ لے

سیکھ لے جب تھرتھرانا، رقص کر

دیکھنے والوں کی آنکھیں پھوڑ دے

آج ایسا وحشیانہ رقص کر

جھُوم اٹھیں حاضرین و ناظرین

محفلوں میں غائبانہ رقص کر

کون کیا کہتا ہے یکسر بھُول جا

بھاڑ میں جائے زمانہ، رقص کر

قتل کر کے آخری انسان بھی

اے حیاتِ جاوِدانہ، رقص کر

سُن کے اپنے حق میں ہوتا فیصلہ

جی ہی جی میں مجرمانہ رقص کر

اس طرح تو اُڑ نہیں پائے گا تُو

اُڑ فضا میں، طائرانہ رقص کر

رقص کرنے کو بہانہ چاہیے

ڈھونڈھ لے کوئی بہانہ، رقص کر

لہلہاتی سبز سرسوں دیکھ کر

جھُوم جا، دانہ بہ دانہ، رقص کر

احمقوں کی بھِیڑ میں تُو بھی کبھی

جا کے گھس جا، احمقانہ رقص کر

دیکھ! یُوں بھی رائیگاں ہے زندگی

مست ہو جا، رائیگانہ رقص کر

اپنے باہر چپ کی چادر اوڑھ لے

اپنے اندر جارِحانہ رقص کر

رقص جیسی تو کوئی ورزش نہیں

جیسے تیسے بھی روزانہ رقص کر

جو بھی لِکھا ہے اسے گا کر سُنا

گاتے گاتے شاعرانہ رقص کر

جو کِیا کرتا تھا پہلے تُو کبھی

آج پھر وہ ہی پرانا رقص کر

مان لے مُرشد کسی کو، مان لے

ڈھونڈھ کوئی آستانہ، رقص کر

ماتحت کو ناچ تِگنی کا نچا

بر آوازِ افسرانہ، رقص کر

نہ ملا ہے نہ ملے گا وہ کبھی

اس نے کیا ملنا ملانا، رَقص کر

اس کو اس کے حال پر ہی چھوڑ دے

چھوڑ دے یہ آنا جانا، رقص کر

اپنے اللّہ ہی سے اب تُو لَو لگا

چھوڑ بستی، گھر گھرانہ، رقص کر

پھِر سے کوئی آس ٹُوٹی ہے تو کیا

بے دلی ہے؟ بے دلانہ رقص کر

وہ جو تیرے باطنِ باطن میں ہے

ہو اگر خود سے چھپانا، رقص کر

ہو جا مرزا تُو بھی راضی با رضا

چھوڑ دے رونا رُلانا، رقص کر


مرزا رضی الرحمٰن

No comments:

Post a Comment