صفحات

Thursday, 18 August 2022

کاش مداح پیمبر کا لقب مل جائے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ایک بے نام کو اعزازِ نسب مل جائے

کاش مدّاحِ پیمبرﷺ کا لقب مل جائے

میری پہچان کسی اور حوالے سے نہ ہو

اقتدارِ درِ سلطانِ عربﷺ مل جائے

آدمی کو وہاں کیا کچھ نہیں ملتا ہو گا

سنگریزوں کو جہاں جنبشِ لب مل جائے

کس زباں سے میں تِری ایک جھلک بھی مانگوں

طلبِ حُسن تو ہے حُسنِ طلب مل جائے

اب تو گھر میں بھی مسافر کی طرح رہتا ہوں

کیا خبر اذنِ حضوری مجھے کب مل جائے

خیمۂ دل تِرے جلووں سے منور کر لوں

دیدۂ شوق کو بیدارئ شب مل جائے

تُو اگر چھاپ غلامی کی لگا دے مجھ پر

مجھ گنہ گار کو پروانۂ رب مل جائے

دے نہ قسطوں میں مظفر کو محبت اپنی

جس قدر اس کے مقدر میں ہے سب مل جائے


مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment