سورج سے بھی آگے کا جہاں دیکھ رہا ہے
اس دور کا انسان کہاں دیکھ رہا ہے؟
حالات نے جس کے سبھی پر کاٹ دئیے ہیں
وہ آج بھی منزل کا نشاں دیکھ رہا ہے
عیار بہت ہے یہاں تخریب کا مؤجد
وہ برف کے جنگل میں دھواں دیکھ رہا ہے
اک روز پکڑ لے گا وہ قاتل کا گریباں
جو وقت کی رفتار زباں دیکھ رہا ہے
صدیوں کے تعلق کا یہ احساس ہے شاید
صحرا میں حقیقت کو عیاں دیکھ رہا ہے
اس سر پھرے موسم کا بھروسہ نہیں ثاقب
ماحول کا سب بارِ گراں دیکھ رہا ہے
احسان ثاقب
No comments:
Post a Comment