صفحات

Tuesday, 16 August 2022

ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہے

 ہر آہ سرد عشق ہے ہر واہ عشق ہے 

ہوتی ہے جو بھی جرأت نگاہ عشق ہے 

دربان بن کے سر کو جھکائے کھڑی ہے عقل 

دربار دل کہ جس کا شہنشاہ عشق ہے 

سن اے غرور حسن ترا تذکرہ ہے کیا 

اسرار کائنات سے آگاہ عشق ہے 

جبار بھی رحیم بھی قہار بھی وہی 

سارے اسی کے نام ہیں اللہ عشق ہے 

محنت کا پھل ہے صدقہ و خیرات کیوں کہیں 

جینے کی ہم جو پاتے ہیں تنخواہ عشق ہے 

چہرہ فقط پڑاؤ ہیں منزل نہیں تری 

اے کاروان عشق تری راہ عشق ہے 

ایسے ہیں ہم تو کوئی ہماری خطا نہیں 

للہ عشق ہے ہمیں واللہ عشق ہے 

ہوں وہ امیر امام کہ فرہاد و قیس ہوں 

آؤ کہ ہر شہید کی درگاہ عشق ہے


امیر امام

No comments:

Post a Comment