صفحات

Sunday, 18 September 2022

نگاہیں ملا کر بدل جانے والے

 فلمی گیت 


نگاہیں ملا کر بدل جانے والے 

مجھے تجھ سے کوئی شکایت نہیں ہے

یہ دنیا بڑی سنگدل ہے یہاں پر 

کسی کو کسی سے محبت نہیں ہے


جفاؤں سے تُو نے میرے دل کو توڑا

مجھے تُو نے ظالم کہیں کا نہ چھوڑا

ہُوا مجھ کو معلوم سب کچھ لُٹا کر

وفا کی یہاں کوئی قیمت نہیں ہے


نہ پہلے سے دن ہیں نہ پہلی سی راتیں 

بھلا دیں وہ تُو نے محبت کی باتیں

سُنائے تھے جو تُو نے جُھوٹے فسانے 

ذرا سی بھی ان میں حقیقت نہیں ہے


کروں جو میں فریاد اپنی زباں سے

گریں ٹُوٹ کر بجلیاں آسماں سے

میں اشکوں میں سارے جہاں کو بہا دوں 

مگر مجھ کو رونے کی عادت نہیں ہے


قتیل شفائی

No comments:

Post a Comment