دے چکا ہے مجھے دل اذنِ سفر، جانے دے
اب تو میں ہو بھی چکا شہر بدر، جانے دے
آج میں تیرے بلانے سے نہیں آؤں گا
شہر کا شہر مجھے درد کے ہرجانے دے
میرے احساس کی در در میں اترنے والے
تجھ سے کہنا ہے کہ میں تجھ سے، مگر جانے دے
تُو جس شمع کی دہلیز سے لے آیا ہے
اس کی قسمت میں ہے مر جانا اسے مر جانے دے
تیری آغوش کی گرمی کا مزا تب لوں گا
پہلے سردی سے مجھے خوب ٹھٹھر جانے دے
آج کے بعد کبھی رات نہ ہونے دینا
آج کے بعد نہ کہنا؛ مجھے گھر جانے دے
گل نوخیز اختر
No comments:
Post a Comment