صفحات

Monday, 19 September 2022

دل ہی دل میں کسے بلاتے ہو

 دل ہی دل میں کسے بلاتے ہو​

کس قدر تنگ دلی دکھاتے ہو​

ہم تو ہیں منتظر کہ کب، کس دن​

ہم کو آواز تم لگاتے ہو​

کیا محبت اسی کو کہتے ہیں

کہ فراموش کرتے جاتے ہو

کر لیا وعدۂ وصال تو پھر

خود ہی تم کیوں نہیں بلاتے ہو

یہ بھی کہتے ہو جان ہو میری

اور حقارت سے پیش آتے ہو

تم تو جذبوں کی بات رہنے دو

کیا مجھے عاشقی سکھاتے ہو

آؤ، دل جیتنا سکھائیں تمہیں

کتنے سنگدل ہو دل دُکھاتے ہو

آج اجلال! کیا ہوا تم کو؟​

کس کو روداد یہ سناتے ہو​

اجلال حسین

No comments:

Post a Comment