صفحات

Monday, 19 September 2022

بیٹھا ہوا ہوں ریت کی دیوار پہ مرشد

 بیٹھا ہوا ہوں ریت کی دیوار پہ مرشد

لاشوں کو تک رہا ہوں کھڑا دار پہ مرشد

ایسا فراق یوسفؑ و یعقوبؑ سے پایا

اب اشک بھی آنے کو ہیں معیار پہ مرشد

تھا معجزہ جب فِیل مقابل میں کھڑے تھے

معمور ابابیل تھے مسمار پہ مرشد

دنیا ہے ریا کار میں سب جان چکا ہوں

ہنستا ہے جہاں صاحبِ کردار پہ مرشد

مالک نے میری ماں کی دعاؤں کے سبب سے

پہنچایا مجھے موجۂ انوار پہ مرشد

ہاتھوں میں ذوالفقار لیے شیرِ خدا ہے

قربان ہیں سب مکہ کے سردار پہ مرشد

بے حس ہیں ضمیر ان کے خدا جانے کہاں ہیں

کیوں ڈھا رہے ہیں ستم ترے یار پہ مرشد

اک ضابطۂ عمر جو خالق کی عطا ہے

صد شکرِ خدا نعمتِ ابرار پہ مرشد

سوچوں کا اِک ہجوم ہے دل اور دماغ میں

بیٹھا ہوا ہوں عشق کے رہوار پہ مرشد

دل کا لہو بھی آنکھ کے گوشوں سے رواں ہے

حیدر بھی رو رہا ہے خطا کار پہ مرشد


فرقان حیدر

No comments:

Post a Comment