صفحات

Saturday, 1 October 2022

اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ

 اک معصوم فسانہ ہے وہ چہرہ

مجھے اپنا بنانا ہے وہ چہرہ

میرے شب و سحر کا سکوں ہے وہ

دلبرا میرا خواب سہانا ہے وہ چہرہ

جسے دیکھ کر میں کھِل اٹھتا ہوں

میرا شوق میرا زمانہ ہے وہ چہرہ

گوہر بھی دیکھ کر شرما جائے اسے

آب و تاب میں ایسا شاہانہ ہے وہ چہرہ

سیف الملوک پہ بیٹھ کے مجھ کو بھی

دیکھنا ہے، گنگنانا ہے وہ چہرہ

کسی روز محبت میں گھُل کر اس کی

ضد کرنی ہے پاس بٹھانا وہ چہرہ

سیاہ بالوں میں اک کلی کی صورت

دھنک کے رنگوں سے سجانا ہے وہ چہرہ

ہر آنکھ کی سمجھ سے باہر ہے

کس قدر فلسفیانہ ہے وہ چہرہ

تتلیوں سے خوب میل کھاتا ہے

پھولوں کا دیوانہ ہے وہ چہرہ

ستارے سمٹ سمٹ کے گرتے ہیں

کہکشاں کی منزل کا ٹھکانہ ہے وہ چہرہ

سرخ گلابوں کی شگفتگی سا ہے

حیا کے آنچل کا شرمانا ہے وہ چہرہ

میں شاویز اس کا شاعر ہوں

میرا اندازِ شاعرانہ ہے وہ چہرہ


شاویز احسن

No comments:

Post a Comment