صفحات

Sunday, 2 October 2022

مری غزل نے زمانے کو سوگوار کیا

 مِری غزل نے زمانے کو سوگوار کِیا

دلوں کو موم تو آنکھوں کو اشکبار کیا

کچھ اس طرح سے غموں کی گرِفت میں ہوں میں

کہ اک نے چھوڑا تو اک اور نے حصار کیا

تمام عمر اسی رہگزر پہ بیٹھا رہا

تمام عمر صنم تیرا انتظار کیا

اگرچہ تم نہیں آئے تمام رات، مگر

نظر بہکتی رہی، دل نے اعتبار کیا

ان آنسوؤں کا بُرا ہو کہ جو خفی تھا بہت

وہ راز سارے زمانے پہ آشکار کیا

جو من پسند ہے دل میں بسا لیا اس کو

یہ جُرم ہے تو سُنو! ہم نے بار بار کیا

تِری نگاہ کسی مےکدے سے کم تو نہیں

پِلا پِلا کے مجھے اس نے بادہ خوار کیا

تمہاری یاد نے تنہائیوں کے جُھرمٹ میں

تمام رات ہی حیدر کو بے قرار کیا


فرقان حیدر

No comments:

Post a Comment