صفحات

Saturday, 15 October 2022

خودنمائی سے غرض اور نہ مشہوری سے

 خودنمائی سے غرض اور نہ مشہوری سے

ہم تو اب شعر بھی کہتے ہیں تو مجبوری سے

چشمِ آہو پہ وہ کرتا ہے قصیدہ گوئی

جس کا مطلب ہو فقط ناف کی کستوری سے

داستاں غیرتِ پنجاب کی ہے، ورنہ غرض

کس کو مکھّو سے ہے جٹ مولا سے نت نوری سے

اس کی آنکھوں سے جنوں جھانک رہا تھا اب بھی

شخص جو رہ میں مِرا پاؤں کی معذوری سے

اب میسّر تو نہیں آپ کی قربت، لیکن

پھر بھی ہم دیکھ ہی لیتے ہیں زرا دوری سے

تُو مجھے حور کے قصّے میں نہ اُلجھا واعظ

ایک خاکی کو ہے نسبت بھلا کیا نوری سے

تیرے لہجے سے نمایاں ہے کہ مانوس ہے تُو

سورٹھ و بھیم سے کلیان سے مادھوری سے

میرے ہاتھوں نے بڑھاپے کا بھرم رکھا ہے

پل گئے ہیں مِرے بچے مِری مزدوری سے

ہائے، ہم خانہ بدوشوں کا مقدر آغا

لوگ تکتے ہیں گزر جاتے ہیں مغروری سے


جاوید آغا

No comments:

Post a Comment