صفحات

Saturday, 1 October 2022

عشق کرنا نہیں آسان میاں

 کافی کا ٹائٹل


نینہہ لایُم کارن سُکھ وے میاں

پے پلڑے ڈوڑے ڈُکھ وے میاں

نہ خواہش دنیا دولت دی

نا شاہی شوکت صولت دی

ہے ہک دیدار دی بھُکھ وے میاں


اردو ترجمہ

عشق کرنا نہیں آسان میاں

دکھ پہ دکھ ہوتے ہیں ہر آن میاں


کوئی خط آیا نہ آیا ہے پیام

نہ کوئی بھول کے لایا ہے سلام

عمر آفت میں گزرتی ہے تمام

دکھ میں قائم نہیں اوسان میاں

عشق کرنا نہیں آسان میاں


نہ تو ہے خواہشِ دولت ہم کو

نہ تو صولت کی ضرورت ہم کو

ہے فقط شوقِ زیارت ہم کو

دل میں ہیں دید کے ارمان میاں

عشق کرنا نہیں آسان میاں


دل میں اندوہ و الم ہیں بھاری

ڈھیر میں جیسے لگے چنگاری

عشق میں جلنے لگی بے چاری

روز رہتی ہے پریشان میاں

عشق کرنا نہیں آسان میاں


خواجہ غلام فرید کی شاعری

 اردو ترجمہ: کشفی ملتانی

No comments:

Post a Comment