پلٹ کے آ بھی جانا اب تو یار میں نہیں رہا
میری جگہ ہے تیرا انتظار، میں نہیں رہا
کٹی تو پہلے بھی ہے تیرے بِن پر اس بہار میں
لگا ہے پہلی بار، اب کی بار میں نہیں رہا
مدد نہیں ابھی تو تجھ سے استفادہ چاہیے
تجھے بلا رہا ہوں میں، پکار میں نہیں رہا
ضرورتوں کا وقت تھا وہ ہجرتوں کا دشت تھا
مگر کسی کی پیٹھ پر سوار میں نہیں رہا
چُھپے ہیں خنجر آستین کے تلے، سو اس لیے
قمیص کے تلے زرہ اتار میں نہیں رہا
لگی ہے میری آنکھ، کام میں ہیں یار بھی لگے
پھر اس سے پہلے اتنا ہوشیار میں نہیں رہا
پلٹ کے آ بھی جا کہ جاں! تِرے بغیر زندگی
گزار تو رہا ہوں میں، سدھار میں نہیں رہا
ابرار شاہ
No comments:
Post a Comment