صفحات

Tuesday, 4 October 2022

محفل کہاں جو رونق محفل نہیں ہوں میں

 شکوہ


محفل کہاں جو رونقِ محفل نہیں ہوں میں

کیا مستئ شبانہ کا حاصل نہیں ہوں میں

آئینۂ شکستۂ ماضی بغل میں ہے

آرائشِ جمال سے غافل نہیں ہوں میں

نگراں ضمیرِ غیر کی ہے چشمِ عیب بیں

ثابت ہوا کہ ظالم و جاہل نہیں ہوں میں

ہنس لیتا ہوں کہ دل ہے مِرا تلخیوں سے پُر

تیرے حضور رونے پہ مائل نہیں ہوں میں

سینہ میں اک جہانِ شکایت ہے مثلِ نے

لیکن تِرے نفس کے مقابل نہیں ہوں میں

جل جاؤں میں بھی اور یہ سب کھیل بھی تِرا

ہیہات، اس شرار کا حامل نہیں ہوں میں

اب غیر کی عنایتِ پیہم کے ہوں سپرد

یعنی تِرے غضب کے بھی قابل نہیں ہوں میں

رنگینئ فنا ہے مِری علتِ وجود

نقاشِ منتقِم! خطِ باطل نہیں ہوں میں

اِک طعن بے محل ہے تِرا وعدۂ نشور

جب اپنی زندگی کا بھی قائل نہیں ہوں میں

اک ذرۂ حقیر ہوں اے ربِ کائنات

دنیا کے ہر گناہ کا حامل نہیں ہوں میں

اِک لمحۂ حیات کی ہے دل میں آرزو

تیری بقا سے اس کا بھی سائل نہیں ہوں میں

اے ارض، اے فلک، یہ عجب انتقام ہے

جینا محال، اور نہ جینا حرام ہے


کرار حسین

No comments:

Post a Comment