تِرے آہ زاروں میِں آہ و زاری تھی ان دنوں
تِری کُوچ کرنے کی جب تیاری تھی ان دنوں
وہ عجیب دن تھے کہ چین پڑتا نہ تھا کہیں
وہ شباب رُت ہی سکوں سے عاری تھی ان دنوں
بڑی دور دور سے خواب لاتا تھا بھر کے میں
میرے ذمہ آنکھوں کی آبیاری تھی ان دنوں
وہ جو دستیاب تھے خواب وہ بھی عذاب تھے
مِیرے خالی کیسے میں ریزگاری تھی ان دنوں
وہ اُٹھان تھی کسی تر بدن کے شباب کی
کسی چڑھتے دریا پہ موج طاری تھی ان دنوں
میں نبھا رہا تھا معاملہ ابھی پھول سے
کہیں بات کرنے میں شرمساری تھی ان دنوں
کڑے مرحلے تھے سوئمبروں سے بیاہ تک
کوئی شاہ زادی ابھی کنواری ان دنوں
میری آڑ میں تھے وہی جو تھے مِری گھات میِں
سو جہاں پڑی وہی ضرب کاری تھی ان دنوں
وہی دسترس میں تھا جس کے زیرِ اثر تھا میں
عجب اختیار و بے اختیاری تھی ان دنوں
وہیں بُت بنے سبھی ہنس کے جھیلیں تو اس لیے
تِرے شست بازوں کی چاند ماری تھی ان دنوں
یہ رواج تھا جو بچھڑ گیا، سو وہ مر گیا
مِرے پیشِ حال بھی وضعداری تھی ان دنوں
کوئی شخص جاں سے بھی بڑھ کے مجھ کو عزیز تھا
مجھے زندگی بھی بہت پیاری تھی ان دنوں
ابرار شاہ
No comments:
Post a Comment