صفحات

Friday, 4 November 2022

ہٹ کے اس رہ سے جو ہے وقف بس انکار کے نام

 ہٹ کے اس رہ سے جو ہے وقف بس انکار کے نام 

آؤ پھر شعر کہیں گیسوئے دلدار کے نام 

زہر غم لے تو چلا جاں کو مگر تشنہ لبی 

جرعہ اک اور تمنائے لبِ یار کے نام 

رسمِ عشاق ہے یہ اس کو نبھائیں ہم بھی 

ورقِ جاں کو لکھیں شعلۂ رخسار کے نام 

وہ کرے قتل تو اندیشۂ دشنام نہیں 

ہر رگ جاں کو کریں دشنہ و تلوار کے نام 

شہر پابندیٔ آداب لگا حکم کوئی 

چاک دامن ہے مِرا رونق بازار کے نام 

چوبِ بے برگ سہی دفترِ شہ میں لیکن 

پھول کھلتے ہی رہیں گے سبد دار کے نام 

خواب زاروں پہ رہے دھوپ کے منظر پیہم 

کوئی سورج نہ جلا قریۂ بیدار کے نام 

ہم نے جمشید! لکھے عمر کے سارے موسم 

اس کے ہونٹوں پہ بھٹکتے ہوئے اقرار کے نام


جمشید مسرور

No comments:

Post a Comment