صفحات

Sunday, 6 November 2022

سہانی رات میں دلکش نظارے یاد آتے ہیں

یاد


سہانی رات میں دلکش نظارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


اسی صورت سے دن ڈھلتا ہے سورج ڈوب جاتا ہے

اسی صورت سے شبنم میں ہر اک ذرہ نہاتا ہے

تڑپ جاتا ہوں میں جب دل ذرا تسکین پاتا ہے

اسی انداز سے مجھ کو سہارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


اکیلے میں تمہاری یاد سے بچ کر کہاں جاؤں

لب خاموش کی فریاد سے بچ کر کہاں جاؤں

تمہیں کہہ دو دل ناشاد سے بچ کر کہاں جاؤں

کنایوں کو بھلاتا ہوں اشارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


نگاہوں میں ابھی تک ہے اسی دن رات کا منظر

تمہارے ساتھ میں بیتے ہوئے لمحات کا منظر

مچلتے، مسکراتے، جاگتے، جذبات کا منظر

تصور آفریں وہ شاہ پارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


مِری نظروں سے اوجھل اب مقام جہد ہستی ہے

نہ وہ احساس عشرت ہے، نہ وہ انجم پرستی ہے

اکیلا جان کر مجھ کو مری تنہائی ڈستی ہے

مجھے بیتے ہوئے لمحات سارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


تمناؤں کے میلے اب نہیں لگتے کبھی دل میں

کشش باقی رہی کوئی نہ راہوں میں، نہ منزل میں

دھواں سا اب نظر آتا ہے مجھ کو ماہ کامل میں

تمہارے ساتھ جتنے دن گزارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


گلہ اس کا نہیں کیوں تم نے مجھ سے اپنا منہ موڑا

نہیں قابو تھا اپنے دل پہ پیمان وفا توڑا

تمہاری یاد نے لیکن نہ کیوں اب تک مجھے چھوڑا

یہ کیوں پیہم مجھے پیماں تمہارے یاد آتے ہیں

نہیں ہو تم مگر وہ چاند تارے یاد آتے ہیں


شوکت پردیسی

شوکت عظیم 

No comments:

Post a Comment