صفحات

Wednesday, 2 November 2022

تیرے میرے گھر کی حالت باہر کچھ اور اندر کچھ

 تیرے میرے گھر کی حالت باہر کچھ اور اندر کچھ 

جیسے ہو پھولوں کی رنگت باہر کچھ اور اندر کچھ 

باہر باہر خاموشی ہے،۔ اندر اندر ہنگامہ 

کیسی ہے یہ جسم کی حدت باہر کچھ اور اندر کچھ 

لفظ ہے کچھ اور معنی کچھ ہر مصرعے میں فن کار ہے غم 

ایسے ویسے شعر کی لذت باہر کچھ، اور اندر کچھ 

کیوں نہ آنکھ میں آنسو آئے کیوں نہ دل کو چوٹ لگے 

اپنے اپنے دیس کی حالت باہر کچھ، اور اندر کچھ 

کوئی نہ شاید جان سکے گا سورج کی متوالی چال 

شہر میں کیوں ہے دھوپ کی شدت باہر کچھ اور اندر کچھ 

گہری نظر والوں میں اختر روشن ہے پہچان الگ 

پھر بھی کیوں ہے آپ کی عزت باہر کچھ اور اندر کچھ

 

کلیم اختر

No comments:

Post a Comment