صفحات

Saturday, 5 November 2022

زیست کو خواب نہیں ایک حقیقت کیجے

زیست کو خواب نہیں ایک حقیقت کیجے

نا کہ خوابوں میں سفر کرنے کی حسرت کیجے

شمعِ امید کو تنویر کی صورت کیجے

سینچ کر خون سے گلستاں کی حفاظت کیجے

گو کہ دشوار ہے دشمن سے بھی الفت کرنا

دل کو پتھر نہیں بس موم کی صورت کیجے

دے کے غم اپنی جدائی کا بھی ہم کو جاناں

دل کے صحرا میں ہمارے یوں نہ وحشت کیجے

رات تو بیت گئی اپنی ستارے گِنتے

شبِ مہتاب میں یادوں کو عبارت کیجے

”٭“ہو میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا

پیر و طِفل اور فقیروں سے بھی شفقت کیجے

دل تو ٹوٹا ہے درخشاں یہ ہمارا لیکن

کوئی شکوہ نہ شکایت، نہ عداوت کیجے


درخشاں صدیقی

٭ مصرع تضمین (علامہ اقبال)

No comments:

Post a Comment