صفحات

Thursday, 3 November 2022

تیرا ستم بھی عین کرم ہے حقیقۃً

 تیرا ستم بھی عین کرم ہے حقیقۃً

لیکن یہ بات میں نے کہی ہے روایۃً

پورے شباب پر ہے گلوں کی شگفتگی

فصلِ بہار، فصلِ خزاں ہے کنایۃً

اس آنکھ میں اشارہ نہیں التفات کا

یہ بھی اک التفات ہے، لیکن اشارۃً

اک جبرِ اتفاق ہے کہتے ہیں جس کو عشق

جاتا ہے کون موت کے منہ میں ارادۃً

اے دوست میں خجل ہوں کہ پھر باوجود ضبط

اک آہ آ گئی ہے مِرے ہونٹوں پہ عادۃً

اکثر تو دل میں آتی ہے اس طرح تیری یاد

جس طرح کوئی مصرعِ رنگیں بدیہۃً

جو رمز ہے کسی کی نگاہِ خموش میں

لطفِ سخن یہ ہے کہ نہ کہیے صراحۃً

عاصی! کرم سے عشق کو آسودگی کہاں

میں نے کسی کا شکر کیا ہے شکایۃً


عاصی کرنالی

عام طور پر حقیتاً، اشارتاً، ارادتاً وغیرہ آخر میں الف پر دو زبر کے ساتھ لکھا جاتا ہے 

مگر کتاب میں ایسے ہی لکھا تھا جیسا غزل میں ہے۔

No comments:

Post a Comment