اور کیا عشق میں حصول کیا
آنکھ تر کی، یہ دل ملول کیا
ایک پل بھی نہ خود پہ خرچ ہوئے
یوں تِری ذات میں حلول کیا
کامیابی اسے ملی جس نے
سجدۂ ضبط با اصول کیا
دارِ منزل کو آخری سمجھے
باقی جادہ دمِ فضول کیا
منتہائے خوشی میں ہم نے دوست
سانس در سانس غم وصول کیا
طاہر ہاشمی
No comments:
Post a Comment