صفحات

Thursday, 3 November 2022

تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا

 تم نے اب سیکھ لیا مجھ کو ستائے رکھنا

ایک محشر سا مِرے دل میں اٹھائے رکھنا

ایسا کرنا کہ مِرے نام کو دل پر لکھ کر

پردۂ ذہن کو توقیر دلائے رکھنا

میں بھی رکھوں گا تمہیں سوچ کے شانوں پہ سوار

تم بھی سینے سے مِری آس لگائے رکھنا

پھر اترنا ہے مجھے خواب کی گہرائی میں

تم نگاہوں میں کوئی راہ بنائے رکھنا

منتظر آنکھ کو مایوس نہ ہونے دینا

خود کو امید کے رستے پہ بٹھائے رکھنا

جانے کب پھر سے پلٹ آؤں تمہاری خاطر

پھول احساس کے گلشن میں کھلائے رکھنا

اپنی آنکھوں کا دیا میری جبیں پر رکھ کر

نام اپنا مِری قسمت میں جگائے رکھنا


نقاش عابدی

No comments:

Post a Comment