صفحات

Friday, 4 November 2022

اللہ تیری شان یہ اپنوں کی ادا ہے

 فلمی گیت


اللہ تیری شان یہ اپنوں کی ادا ہے

محفل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے


جینے کی ہے تاکید ہمیں زہر پلا کر

ظالم جیسے سمجھتا ہے وہی جیسے خدا ہے

محفل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

اللہ تیری شان


تعمیر کیا شیش محل لاش پر میری

شامل تیری خوشیوں میں میرا خونِ وفا ہے

محفل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

اللہ تیری شان


کہتے ہو جنہوں دوست بچو ان کے کرم سے

ہر دوست نیا زخم لگانے پہ تُلا ہے

محفل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

اللہ تیری شان


انسان خدا بننے کی کوشش میں ہے مصروف 

لیکن یہ تماشہ بھی خدا دیکھ رہا ہے

محفل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

اللہ تیری شان


شباب کیرانوی

فلم؛ سہیلی

اوپر جو گیت ہے وہ شباب کیرانوی جی کی درج ذیل غزل کے چند اشعار کو بنیاد بنا کر لکھا گیا تھا۔


اللہ تِری شان، یہ اپنوں کی ادا ہے

محفل میں ہمیں دیکھ کے منہ پھیر لیا ہے

تُو مجھ کو مٹانے کی قسم کھا تو رہا ہے

اس کو نہ مگر بُھول کہ میرا بھی خدا ہے

مرنا ہی مقدر ہے تو جینے کی سزا کیوں

کس جُرم کی انسان سزا کاٹ رہا ہے

ہر چند کہ اک قصۂ ماضی ہے تِری یاد

سینے میں مگر آج بھی کانٹا سا چبھا ہے

جینے کی ہے تاکید ہمیں زہر پلا کر

ظالم یہ سمجھتا ہے، وہی جیسے خدا ہے

انسان کو شیطان بھی اب سجدہ کرے گا

اس دور کا انسان تو شعلوں سے بنا ہے

تعمیر کیا شیش محل نعش پہ میری

شامل تِری خوشیوں میں مِرا خونِ وفا ہے

کیا خوب ملا ہم کو صِلہ اپنی وفا کا

ہر روز نیا ایک ستم ہم پہ ہوا ہے

انسان خدا بننے کی کوشش میں ہے مصروف

لیکن یہ تماشا بھی خدا دیکھ رہا ہے

نازاں ہے شباب اپنے مقدر پہ ازل سے

اللہ سے جو مانگ لیا اس نے دیا ہے


شباب کیرانوی

No comments:

Post a Comment