جاتا رہا قلب سے ساری خدائی کا عشق
قابل تعریف ہے تیرے فدائی کا عشق
کیسی مصیبت ہے یہ گل کو خموشی کا شوق
بلبل بے تاب کو ہرزہ سرائی کا عشق
پڑ گئی بکنے کی لت ورنہ یہاں تک نہ تھا
واعظ نا فہم کو ہرزہ سرائی کا عشق
کرتا ہوں جو بار بار بوسۂ رخ کا سوال
حسن کے صدقے سے ہے مجھ کو گدائی کا عشق
تم کو خدا نے دیا ساری خدائی کا حسن
مجھ کو عطا کر دیا ساری خدائی کا عشق
عاشق و معشوق کی ہائے نبھے کس طرح
ان کو کدورت کا شوق مجھ کو صفائی کا عشق
پوچھ لے پرویں سے یا قیس سے دریافت کر
شہر میں مشہور ہے تیرے فدائی کا عشق
نہ آیا کر کے وعدہ وصل کا اقرار تھا کیا تھا
کسی کے بس میں تھا مجبور تھا لاچار تھا کیا تھا
برا ہو بد گمانی کا وہ نامہ غیر کا سمجھا
ہمارے ہاتھ میں تو پرچۂ اخبار تھا کیا تھا
صدا سنتے ہی گویا مُردنی سی چھا گئی مجھ پر
یہ شور صُور تھا یا وصل کا انکار تھا کیا تھا
خدا کا دوست ہے تعمیر دل جو شخص کرتا ہو
خلیل اللہ بھی کعبہ کا اک معمار تھا کیا تھا
نہ آئے تم نہ آؤ میں نے کیا کچھ منتیں کی تھیں
تمہیں نے خود کیا تھا عہد یہ اقرار تھا کیا تھا
ہوا میں جب اڑا پردہ تو اک بجلی سی کوندی تھی
خدا جانے تمہارا پرتوِ رخسار تھا، کیا تھا
ملا تو ہم سے محفل میں جو شب کو غیر کیوں بگڑا
تِرا حاکم تھا ٹھیکادار تھا مختار تھا کیا تھا
مِری میت پہ ماتم کرتے ہو اللہ رے چالاکی
خبر ہے خود تمہیں مدت سے میں بیمار تھا کیا تھا
ہزاروں حسرتیں بے تاب تھیں باہر نکلنے کو
وہ سوتے میں بھی پرویں فتنۂ بیدار تھا کیا تھا
پروین ام مشتاق
No comments:
Post a Comment