صفحات

Sunday, 6 November 2022

سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں

 سواد شام نہ رنگ سحر کو دیکھتے ہیں

بس اک ستارۂ وحشت اثر کو دیکھتے ہیں

کسی کے آنے کی جس سے خبر بھی آتی نہیں

نہ جانے کب سے اسی رہگزر کو دیکھتے ہیں

خدا گواہ کہ آئینۂ نفس ہی میں ہم

خود اپنی زندگیٔ مختصر کو دیکھتے ہیں

تو کیا بس ایک ٹھکانا وہی ہے دنیا میں

وہ در نہیں تو کسی اور در کو دیکھتے ہیں

سنا ہے شہر کا نقشہ بدل گیا محفوظ

تو چل کے ہم بھی ذرا اپنے گھر کو دیکھتے ہیں


احمد محفوظ

No comments:

Post a Comment