صفحات

Wednesday, 9 November 2022

آج بھی آپ گئے تھے ملنے اس کے گھر پھر کل جائیں گے

 آج بھی آپ گئے تھے ملنے اس کے گھر پھر کل جائیں گے

طالب صاحب آگ سے مت کھیلیں بالآخر جل جائیں گے

وہ اپنے گھر کی رونق، بن جائے تو ہم وعدہ کرتے ہیں

اپنے گھر واپس جا کر گھر کے ماحول میں ڈھل جائیں گے

رسی جل گئی لیکن اس کے بل شعلوں پر خندہ زن ہیں

جب خاکستر بن کے اڑے گی تب رسی کے بل جائیں گے

حد نظارہ تک خشخاش کے نیلے پودے تھے اور میں تھا

دل نے کہا تھا آنکھ جھکا لے ورنہ پودے جل جائیں گے

دولت پر اترانے والے اپنا آپ بچا کر رکھیں

یہ تیزاب ہے اس میں گر کر پیکر ویکر گل جائیں گے

اپنی مہار کو خود ہی تھامے ایک چھلاوے کے پیچھے ہم

جنگل جنگل گھوم چکے ہیں اب بادل بادل جائیں گے

ذہن کے سب کھڑکی دروازے کھول کے اندر جھاڑو دے دو

کب سے حجرہ بند پڑا ہے، اس میں بچھو پل جائیں گے

اس سندر دیوی کو شاید مجھ سے کوئی کام نہیں اب

اب پھر سارے عہد و پیاں اگلے جنم پر ٹل جائیں گے

اس نے مجھ سے عذر تراشے یعنی وہ یہ جان رہا تھا

ایک یہی دوکان ہے جس پر کھوٹے سکے چل جائیں گے


طالب جوہری 

No comments:

Post a Comment