صفحات

Tuesday, 8 November 2022

میں خود کو ڈھونڈتا ہوں نہ جانے کہاں کہاں

 میں خود کو ڈھونڈتا ہوں نہ جانے کہاں کہاں

بچھڑا ہوں جس چمن سے میں وہ گلستاں کہاں 

منزل کی جستجو مجھے لے آئی کس جگہ

 جس کارواں کی گرد ہوں وہ کارواں کہاں 

اب خاک بھی نہیں کہ اڑایا کریں جسے

وہ شاخِ گل، وہ گلستاں، وہ آشیاں کہاں

اک بوجھ ہے کہ دل پہ لیے پھر رہا ہوں میں

وہ درد دل، وہ لذتِ درد نہاں کہاں

سرشار ہو رہا تھا کبھی بِن پیے بھی میں 

اب پی کے بھی وہ لذتِ سرشاریاں کہاں 

جب ریت کے گھروندے بھی محلوں سے کم نہ تھے

بچپن کی بھولی بھالی وہ معصومیاں کہاں 

گھر ڈھونڈنا وہ رات کو تاروں کے شہر میں

پریوں کے دیس کی وہ حسیں داستاں کہاں 

پہروں گزارتے تھے کبھی تتلیوں میں ہم

اب کاروبار زیست سے فرصت یہاں کہاں 

قیصر چلو کہ چلتے ہیں صحرا کی اور اب

شہروں میں اب وہ انجمن آرائیاں کہاں 


قیصر جمیل ندوی

No comments:

Post a Comment