صفحات

Friday, 4 November 2022

جب تک ترے روضے پہ نظر رکھے رہیں گے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جب تک تِرے روضے پہ نظر رکھے رہیں گے

ہم دیکھتے رہنے کا ہنر رکھے رہیں گے

وہ کربل و کوفہ ہوں، مدینہ ہو حرم ہو

سرکارؐ جدھر چاہیں ادھر رکھے رہیں گے

ہم پڑھتے رہیں گے تِراﷺ پیغامِ محبت

صفحوں میں یونہی مور کے پر رکھے رہیں گے

راہوں میں تِریﷺ نور کا پیمان رہے گا

قدموں میں تِرے شمس و قمر رکھے رہیں گے

یہ لوگ تِرے چاہنے والے شہِ لولاکﷺ

یہ لوگ زمانوں سے ادھر رکھے رہیں گے

دنیا میں بھی وہ خیر خبر رکھے ہوئے ہیں

محشر میں بھی وہ ہم پہ نظر رکھے رہیں گے

اک روز پہنچ جائیں گے تجھ در پہ یقیناً

آنکھوں پہ تِری راہگزر رکھے رہیں گے

آزر مِرے آقاؐ ہوئے تخلیق کا موجب

آفاق اسی دہلیز پہ سر رکھے رہیں گے


دلاور علی آزر

No comments:

Post a Comment