چل بسا خواب تو خواہش کی وبا کاٹتی ہے
آنکھ بیوہ ہے جوانی کی سزا کاٹتی ہے
آگ جلتی ہے کسی آگ کے اندر جیسے
یہ مِری سانس لگاتار ہوا کاٹتی ہے
کھینچ رکھتی ہے کوئی ڈور سبھی رشتوں کو
اور الجھے تو وہی ڈور گلا کاٹتی ہے
مجھ سے پوچھو میں بتاتا ہوں محبت ہے کیا
ایک آری جو فقط پیڑ ہرا کاٹتی ہے
عین ممکن ہے مِری آہ وہاں تک پہنچے
روشنی بھی تو مسافت میں خلا کاٹتی ہے
جس کو ورثے میں ملیں بانجھ زمینیں وہ نسل
اب تلک ان سے فقط فصلِ انا کاٹتی ہے
ممکنہ خوف دعاؤں پہ اثر کرتا ہے
جیسے آواز کو آواز نما کاٹتی ہے
مدثر عباس
No comments:
Post a Comment