ہیں آنسو بدگماں ہم سے ہمارے
کوئی روئے گلے لگ کے ہمارے
دیا ہے لمس کا تحفہ بدن کو
کسی نے کاڑھ کے کرتے ہمارے
ہوائیں بند کرتی، کھولتی ہیں
اسی پر خوش ہیں دروازے ہمارے
نہ دیکھا اک نظر اس خوش نظر نے
دِیے رُسوا ہوئے جل کے ہمارے
بدن کی فائلیں دیمک کی سمجھو
یہ دفتر گر نہیں کھلتے ہمارے
یونہی نکلی نہیں ہے آہ دل سے
لگا ہے ہجر سینے سے ہمارے
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment