صفحات

Tuesday, 1 November 2022

ہیں آنسو بدگماں ہم سے ہمارے

 ہیں آنسو بدگماں ہم سے  ہمارے

کوئی روئے گلے لگ کے ہمارے 

دیا ہے لمس کا تحفہ بدن کو

کسی نے کاڑھ کے کرتے ہمارے 

ہوائیں بند کرتی، کھولتی ہیں

اسی پر خوش ہیں دروازے ہمارے 

نہ دیکھا اک نظر اس خوش نظر نے

دِیے رُسوا ہوئے جل کے ہمارے 

بدن کی فائلیں دیمک کی سمجھو

یہ دفتر گر نہیں کھلتے ہمارے 

یونہی نکلی نہیں ہے آہ دل سے

لگا ہے ہجر سینے سے ہمارے 


کبیر اطہر

No comments:

Post a Comment