عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دن کو دن رات کو جو رات نہیں لکھ سکتا
ایسا فنکار کبھی نعت نہیں لکھ سکتا
عرش سے دل پہ اترتے ہیں مدینے کے خیال
اور میں اپنے خیالات نہیں لکھ سکتا
کتنے انسان مِلے کتنے فرشتے آئے
نام ان کے میں تِرے ساتھ نہیں لکھ سکتا
وادئ جاں میں ہیں روشن تِری چاہت کے حروف
اتنے روشن کہ مِرا ہاتھ نہیں لکھ سکتا
جس کے دل میں بھی در آئے تِرے کردار کا عکس
شُکر لکھتا ہے شکایات نہیں لکھ سکتا
غلام محمد قاصر
No comments:
Post a Comment