صفحات

Friday, 4 November 2022

دن کو دن رات کو جو رات نہیں لکھ سکتا

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


 دن کو دن رات کو جو رات نہیں لکھ سکتا

ایسا فنکار کبھی نعت نہیں لکھ سکتا

عرش سے دل پہ اترتے ہیں مدینے کے خیال

اور میں اپنے خیالات نہیں لکھ سکتا

کتنے انسان مِلے کتنے فرشتے آئے

نام ان کے میں تِرے ساتھ نہیں لکھ سکتا

وادئ جاں میں ہیں روشن تِری چاہت کے حروف

اتنے روشن کہ مِرا ہاتھ نہیں لکھ سکتا

جس کے دل میں بھی در آئے تِرے کردار کا عکس

شُکر لکھتا ہے شکایات نہیں لکھ سکتا


غلام محمد قاصر

No comments:

Post a Comment