صفحات

Friday, 2 December 2022

بات گر بات سے بنی ہوتی

 بات گر بات سے بنی ہوتی

میری آنکھوں میں کیوں نمی ہوتی

زندگی کے اندھیرے رستوں پر

تیرے ہونے سے روشنی ہوتی

مجھ کو تو ہجر بھی غنیمت ہے

گر نہ ہوتا تو شاعری ہوتی

یاد سے بھی سنبھل ہی جاتا دل

مجھ کو تیری اگر کمی ہوتی

میں تِری دوسری محبت ہوں

یعنی ممکن تھا کہ نہ بھی ہوتی

تُو میرے سامنے اگر ہوتا

مجھ سے کیوں کر یہ کج روی ہوتی

میں تو گھٹ گھٹ کے مر ہی جاتی پھر

گر محبت نہیں ملی ہوتی

گر نہ اپناتا مِرا رب مجھ کو

رات پھر درد میں ڈھلی ہوتی

میں بھی ہوتی اگر منافق تو

میری باتوں میں چاشنی ہوتی

کوئی ملتا نہیں ہے چارہ گر

کچھ نہیں تو تیری گلی ہوتی

تیرے ہونے سے بخت روشن ہے

ورنہ، میں بھی کرم جلی ہوتی


نمل بلوچ

No comments:

Post a Comment