بات گر بات سے بنی ہوتی
میری آنکھوں میں کیوں نمی ہوتی
زندگی کے اندھیرے رستوں پر
تیرے ہونے سے روشنی ہوتی
مجھ کو تو ہجر بھی غنیمت ہے
گر نہ ہوتا تو شاعری ہوتی
یاد سے بھی سنبھل ہی جاتا دل
مجھ کو تیری اگر کمی ہوتی
میں تِری دوسری محبت ہوں
یعنی ممکن تھا کہ نہ بھی ہوتی
تُو میرے سامنے اگر ہوتا
مجھ سے کیوں کر یہ کج روی ہوتی
میں تو گھٹ گھٹ کے مر ہی جاتی پھر
گر محبت نہیں ملی ہوتی
گر نہ اپناتا مِرا رب مجھ کو
رات پھر درد میں ڈھلی ہوتی
میں بھی ہوتی اگر منافق تو
میری باتوں میں چاشنی ہوتی
کوئی ملتا نہیں ہے چارہ گر
کچھ نہیں تو تیری گلی ہوتی
تیرے ہونے سے بخت روشن ہے
ورنہ، میں بھی کرم جلی ہوتی
نمل بلوچ
No comments:
Post a Comment