زندگی سکھ سے بسر ہو تو غزل ہوتی ہے
یا کوئی خوف ہو ڈر ہو تو غزل ہوتی ہے
لکھوں نوحہ جو اسے دیکھ نہ پائیں آنکھیں
اس کے چہرے پہ نظر ہو تو غزل ہوتی ہے
نظریں نظروں سے ملا کرتی ہیں یوں تو ہر روز
ہاں کبھی خاص نظر ہو تو غزل ہوتی ہے
دائرہ فکر کا محدود نہ ہونے پائے
ساری دنیا پہ نظر ہو تو غزل ہوتی ہے
یونہی روشن نہیں ہوتے ہیں یہ لفظوں کے چراغ
خونِ دل سوزِ جگر ہو تو غزل ہوتی ہے
شاعری کیا ہے تپسیا ہے، عبادت ہے عدیل
زندگی تنہا بسر ہو تو غزل ہوتی ہے
عدیل زیدی
No comments:
Post a Comment