صفحات

Saturday, 3 December 2022

زندگی سکھ سے بسر ہو تو غزل ہوتی ہے

 زندگی سکھ سے بسر ہو تو غزل ہوتی ہے

یا کوئی خوف ہو ڈر ہو تو غزل ہوتی ہے

لکھوں نوحہ جو اسے دیکھ نہ پائیں آنکھیں

اس کے چہرے پہ نظر ہو تو غزل ہوتی ہے

نظریں نظروں سے ملا کرتی ہیں یوں تو ہر روز

ہاں کبھی خاص نظر ہو تو غزل ہوتی ہے

دائرہ فکر کا محدود نہ ہونے پائے

ساری دنیا پہ نظر ہو تو غزل ہوتی ہے

یونہی روشن نہیں ہوتے ہیں یہ لفظوں کے چراغ

خونِ دل سوزِ جگر ہو تو غزل ہوتی ہے

شاعری کیا ہے تپسیا ہے، عبادت ہے عدیل

زندگی تنہا بسر ہو تو غزل ہوتی ہے


عدیل زیدی

No comments:

Post a Comment