صفحات

Wednesday, 7 December 2022

محبت نظم ہوتی تو بہت نقصان ہو جاتا

 محبت نظم ہوتی تو

میں اس کی نیلگوں الہامیہ سطروں میں 

تشبیہات کے ایسے ادا سے لفظ رکھ دیتا

جنہیں اک غمزدہ پڑھتا

تو اس کا غم چھلک پڑتا

میں اس کی ساری ترکیبوں کو

یوں ترتیب دے دیتا کہ ان کو وقت کا قاری

اگر پڑھتا تو اس کی خشمگیں آنکھوں میں 

گہرے زخم اُگ آتے

سسکتے ہانپتے لفظوں میں ایسا رنگ بھر دیتا

جسے قوسِ قزح کی آٹھویں صورت گنا جاتا

مگر اچھا ہوا شاید

محبت نظم کی صورت نہیں اتری

وگرنہ کل کا قاری جب مجھے پڑھتا

تو اپنا فیصلہ لکھتے ہوئے یکسر

مجھے بے رحم لکھ دیتا

محبت نظم ہو جاتی تو

میرے بعد کے نقاد اور قاری کے ہاں 

میرے اذیت ناک لفظوں پر 

گرفتاری کا سب سامان ہو جاتا

محبت نظم ہوتی تو

بہت نقصان ہو جاتا


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment