صفحات

Thursday, 1 December 2022

میری ماں کو بیٹا چاہیے تھا جب میں پیدا ہوئی

میری ماں کو بیٹا چاہیے تھا

جب میں پیدا ہوئی

جب میری چھوٹی بہن پیدا ہوئی

ہم نے پیدا ہوتے ہی اپنے والدین کا دل توڑا

ہمارا اس پر کوئی اختیار نہیں تھا

ہم نے یہ دانستہ نہیں کیا

اتنی بڑی غلطی کوئی جان بوجھ کر نہیں کرتا

محبت کی طرح

یہ جان بوجھ کر نہیں کی جاتی

یہ تو فطرت ہے

خدا جس دل کو چاہے زرخیز کرے

جس کوکھ کو چاہے ہرا کر دے

یہ اس کے اختیار ہے

ایک ننھے پودے کا کیا قصور ہے

جب وہ اپنی مرضی سے نہیں اگا

پالتو جانور جب نر کو جنتے ہیں

انہیں بھی ایسی ہی نظروں سے دیکھا جاتا ہے

جس نظر سے بیٹی پیدا کرنے والی ماں کو

مگر انہیں کوئی اس بات کا طعنہ نہیں دیتا

کیونکہ وہ جانور ہیں

کسی کی نہیں سنتے

جانور تو ہم بھی ہیں

مگر فطرتاً نہیں

فطرت خدا ہے

خدا کو برا مت کہو

مگر ہمارے معاملے میں جو کچھ کہنا ہے

خدا کو کہو

ہمارے اختیار میں کچھ بھی نہیں

کچھ بھی


خوش بخت بانو

No comments:

Post a Comment