میری ماں کو بیٹا چاہیے تھا
جب میں پیدا ہوئی
جب میری چھوٹی بہن پیدا ہوئی
ہم نے پیدا ہوتے ہی اپنے والدین کا دل توڑا
ہمارا اس پر کوئی اختیار نہیں تھا
ہم نے یہ دانستہ نہیں کیا
اتنی بڑی غلطی کوئی جان بوجھ کر نہیں کرتا
محبت کی طرح
یہ جان بوجھ کر نہیں کی جاتی
یہ تو فطرت ہے
خدا جس دل کو چاہے زرخیز کرے
جس کوکھ کو چاہے ہرا کر دے
یہ اس کے اختیار ہے
ایک ننھے پودے کا کیا قصور ہے
جب وہ اپنی مرضی سے نہیں اگا
پالتو جانور جب نر کو جنتے ہیں
انہیں بھی ایسی ہی نظروں سے دیکھا جاتا ہے
جس نظر سے بیٹی پیدا کرنے والی ماں کو
مگر انہیں کوئی اس بات کا طعنہ نہیں دیتا
کیونکہ وہ جانور ہیں
کسی کی نہیں سنتے
جانور تو ہم بھی ہیں
مگر فطرتاً نہیں
فطرت خدا ہے
خدا کو برا مت کہو
مگر ہمارے معاملے میں جو کچھ کہنا ہے
خدا کو کہو
ہمارے اختیار میں کچھ بھی نہیں
کچھ بھی
خوش بخت بانو
No comments:
Post a Comment