صفحات

Thursday, 8 December 2022

پہلے تھا کوئی ساتھ نہ اب ہے ہمارے ساتھ

 پہلے تھا کوئی ساتھ نہ اب ہے ہمارے ساتھ 

لے دے کے ایک رب تھا سو رب ہے ہمارے ساتھ

بچھڑی پلک جھپکتے ہی جب سے شب وصال

تب سے طویل ہجر کی شب ہے ہمارے ساتھ

آنکھوں میں خواب آتے ہیں آتی نہیں ہے نیند

مدت سے مسئلہ یہ عجب ہے ہمارے ساتھ

جو کچھ بھی تھا ہمارا وہ ہم سے بچھڑ گیا

جو کچھ نہیں ہمارا وہ سب ہے ہمارے ساتھ

اے دور جانے والے تجھے کچھ خبر بھی ہے

پہلے سے بھی زیادہ تو اب ہے ہمارے ساتھ

ہم اس کو دیکھ لیتے ہیں آنکھوں کو موند کر

اک چھب ہمارے ساتھ تھی، چھب ہے ہمارے ساتھ


راجیش ریڈی

No comments:

Post a Comment