صفحات

Thursday, 8 December 2022

تمہارے ہجر میں خواب و خیال بھٹکے ہیں

تمہارے ہجر میں خواب و خیال بھٹکے ہیں

کہاں کہاں مِرے دست سوال بھٹکے ہیں

پھرے ہیں گرد تِرے گردش جہاں کی طرح

مثال روز و شب و ماہ و سال بھٹکے ہیں

عجب ہے کوچۂ جاناں کہ آخر شب میں

بڑے غیور بڑے با کمال بھٹکے ہیں

چمن کی سیر کو جانے کا فائدہ کیا ہے

گلوں میں آپ ہی کے خد و خال بھٹکے ہیں

یہاں تو روز ہی منظر ہے روز محشر کا

چہار سمت نشان زوال بھٹکے ہیں

نہ پوچھے حال کوئی دشت شوق میں تنویر

گریباں چاک کیے خستہ حال بھٹکے ہیں


عباس رضا تنویر

No comments:

Post a Comment