مجھ کو یاد ہے میں نے جب دسویں کا داخلہ بھیجا تھا
میری ماں نے فیس کی خاطر اپنا جھُومر بیچا تھا
میں اور دولت خان کا بیٹا ایک کلاس میں پڑھتے تھے
ایک ہی بینچ تھا لیکن مجھ کو دور دکھائی دیتا تھا
اپنے ٹیچر ایک پرانی سائیکل لے کر پھرتے تھے
لیکن ڈی سی صاحب کا لڑکا لمبی کار میں آتا تھا
جس کا بنگلہ کل ہی تم لاہور میں دیکھ کے آئے ہو
میری گلی کی اس نکڑ پر اک جھُگی میں رہتا تھا
نصب مِرے اجداد کی قبروں پر اک بُت تھا رسموں کا
میں نے اس کو پُوجتے رہنا بھی اسلاف سے سیکھا تھا
ایک کھلونا دیکھ کے اک دن میں نے بھی کچھ ضد کی تھی
ابا جان نے پُر نم آنکھ سے گھُور کے مجھ کو دیکھا تھا
سید نصیر شاہ
No comments:
Post a Comment