مانوس سی مُبہم سی زباں بول رہے ہیں
خاموش مکینوں کے مکاں بول رہے ہیں
یہ درد کا ہنگام ہے نوحہ ہے کسی کا
یہ لوگ جسے اُٹھتا دُھواں بول رہے ہیں
پھولوں کے کلیجوں پہ گزرتی ہے قیامت
کم ظرف بہاروں کو خزاں بول رہے ہیں
یہ لوگ کہیں مار دیئے جائیں گے واللہ
منبر کو بھی واعظ کی دُکاں بول رہے ہیں
یہ صرف کسی درد کی تشہیر ہے میثم
جو بولنا بنتا تھا کہاں بول رہے ہیں
میثم علی آغا
No comments:
Post a Comment