ٹپک رہا رہا ہے جو قطرہ قطرہ ہے آبدیدہ کہ شبنمی ہے
وہ ڈر رہا ہے کہ اس کا سایہ بھی عارضی ہے یا دائمی ہے
وہ اوندھی شاخیں زمیں پہ کر کے پرانے راہگیر ڈھونڈتا ہے
اداسی عزلت میں اوس بن کے ہر ایک پتے پہ آ جمی ہے
وہ شہر دل کی گلی جہاں سرخ آندھیاں خاک اڑا رہی تھیں
خزاں نوشتہ ہوئی ہے جب سے ہوا بھی تب سے تھمی تھمی ہے
جدا گلستاں سے گل کو کر کے رفوگری کو عبث ہی جانو
گندھا ہوا نازکی سے ہے وہ مزاج اس کا بھی ریشمی ہے
رواں زمانے میں عشق کیا ہے، نہ ہے ہلاہل نہ انگبیں ہے
خفیف سا دردِ سر ہے جیسے بخار جس طور موسمی ہے
وہ میکدے صحبتیں میسر تھیں سب ہوئے ہیں سرائے عبرت
رکا نہیں کاروبار ہستی مگر کہیں تو کوئی کمی ہے
حنا بلوچ
No comments:
Post a Comment