صفحات

Sunday, 5 March 2023

ٹپک رہا رہا ہے جو قطرہ قطرہ ہے آبدیدہ کہ شبنمی ہے

 ٹپک رہا رہا ہے جو قطرہ قطرہ ہے آبدیدہ کہ شبنمی ہے

وہ ڈر رہا ہے کہ اس کا سایہ بھی عارضی ہے یا دائمی ہے

وہ اوندھی شاخیں زمیں پہ کر کے پرانے راہگیر ڈھونڈتا ہے

اداسی عزلت میں اوس بن کے ہر ایک پتے پہ آ جمی ہے

وہ شہر دل کی گلی جہاں سرخ آندھیاں خاک اڑا رہی تھیں

خزاں نوشتہ ہوئی ہے جب سے ہوا بھی تب سے تھمی تھمی ہے

جدا گلستاں سے گل کو کر کے رفوگری کو عبث ہی جانو

گندھا ہوا نازکی سے ہے وہ مزاج اس کا بھی ریشمی ہے

رواں زمانے میں عشق کیا ہے، نہ ہے ہلاہل نہ انگبیں ہے

خفیف سا دردِ سر ہے جیسے بخار جس طور موسمی ہے

وہ میکدے صحبتیں میسر تھیں سب ہوئے ہیں سرائے عبرت

رکا نہیں کاروبار ہستی مگر کہیں تو کوئی کمی ہے


حنا بلوچ

No comments:

Post a Comment