صفحات

Saturday, 11 March 2023

میں مر چکا میرے حاکم میری لاش تو دفناتے جاؤ

 میں مر چکا میرے حاکم میری لاش تو دفناتے جاؤ 

کپڑے نہیں ہیں میرے پاس، مجھے کفناتے جاؤ 

میری بیٹی میرے بغیر سونے کی عادی نہیں ہے 

مجھے بچا نہیں سکے مِرے حاکم اسے تو بہلاتے جاؤ 

برستی بارش سے میں بچا نہ سکا اپنا مکان 

میرے حاکم! میری قبر تو اب تم بناتے جاؤ 

سنا ہے تمہاری آواز کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے 

میرے بھوکے بچوں کو تم کوئی لوری سناتے جاؤ 

پکے راگ الاپنا بھی تم سے بہتر کون جانتا ہے حاکم 

یہ کروں گا، وہ کروں گا کا راگ دہراتے جاؤ 

میں مانتا ہوں مِرے علاوہ بھی تمہیں کام ہیں بہت 

زندگی جرم بن گئی ہے مِری موت کا حکم لگاتے جاؤ 


فیصل ندیم

No comments:

Post a Comment