صفحات

Thursday, 9 March 2023

آ گئی دھوپ میری چھاؤں کے پیچھے پیچھے

 آ گئی دھوپ میری چھاؤں کے پیچھے پیچھے 

تشنگی جیسے ہو صحراؤں کے پیچھے پیچھے 

نقش بنتے گئے اک پاؤں سے آگے آگے 

نقش مٹتے گئے اک پاؤں کے پیچھے پیچھے 

تم نے دل نگری کو اجڑا ہوا گاؤں جانا 

ورنہ اک شہر تھا اس گاؤں کے پیچھے پیچھے 

ان سنے ایک بلاوے نے اجاڑے آنگن 

برکتیں اٹھ گئیں سب ماؤں کے پیچھے پیچھے 

وسوسے روک کے بیٹھے ہیں ہمارا رستہ

حادثے ہیں کہ لگے پاؤں کے پیچھے پیچھے  

اپنے بڑھتے ہوئے گستاخ قدم روک رضا 

غوث و ابدال چلے ماؤں کے پیچھے پیچھے


توقیر رضا

No comments:

Post a Comment