صفحات

Thursday, 9 March 2023

دعائیں ماں کی ہوتی ہیں

 امی جان


نہ جانے کتنے برسوں سے

دبا ہوں میں شکنجے میں

مہینے دھوپ چھاؤں سے

کبھی یہ چار ہفتوں کے

کبھی کچھ چار سے اوپر

شروع کے دو جو ہفتے ہیں

بہت رنگین ہوتے ہیں

نوابی سے فقیری کا

زمانہ ہر مہینے میں

ہمیشہ ساتھ چلتا ہے

دعائیں ماں کی ہوتی ہیں

پسینہ میں بہاتا ہوں

خدا بھی مسکرا کے پھر

مِرے حصے کے دانوں کو

مجھے عزت سے دیتا ہے

یہ قصہ ہے مہینے کے

تڑپتے چوتھے ہفتے کا

مِری ماں نے محبت سے

سجایا ناشتہ اک دن

میں اپنی جیب میں باقی

بچے پیسوں کو گننے میں

لگا تھا کہ کہا ماں نے

ارے بیٹا مجھے جاتے

ہوئے تم سو روپے دینا

مِرے اندر تو لاوا تھا

کہ ہفتہ آخری تھا یہ

تھے جیبوں میں فقط سکــے

بھڑک کر میں یوں بولا؛ ماں

نہ جانے کتنے برسوں سے

ہمیشہ چوتھے ہفتے ہی

مجھے تُو کیوں ستاتی ہے

کہ پہلے دونوں ہفتوں میں

بچت کا فلسفہ تیری

زباں پر راج کرتا ہے

کبھی پیسے نہیں مانگے

ہمیشہ آخری ہفتے

تجھے سب یاد آتا ہے

مِرے رب ماں کا سایہ تُو

سبھی کے سر پہ رکھ قائم

مِرے لہجے کی تلخی کو

پیا اس نے محبت سے

عجب مُسکان چہرے پہ

عجب سا پیار آنکھوں میں

سجائے نکلی کمرے سے

ذرا سی دیر میں لوٹی

تو ہاتھوں میں تھی اک تھیلی

مِرے بچے یہ تیرے ہیں

تِری میلی قمیصوں سے

جو سِـکے مجھ کو ملتے تھے

وہ اس میں ہیں

ہمیشہ چوتھے ہفتے میں

جو سو کا نوٹ لیتی تھی

وہ اس میں ہے

کہ پچھلے بارہ سالوں میں

تِری محنت پسینے کے

جو قطرے میں نے جوڑے ہیں

وہ سُوکھے تو نہیں بیٹا

یہ پندرہ ہیں یا سولہ ہیں

مگر ہیں یہ ہزاروں میں

ذرا سا مُسکرا دے ناں

کہ مجھ سے چوتھے ہفتے میں

تِرے چہرے کی ویرانی

کبھی دیکھی نہیں جاتی

ذرا سا مُسکرا دے ناں

مِری جاں مسکرا دے ناں


عابی مکھنوی 

No comments:

Post a Comment