صفحات

Wednesday, 8 March 2023

کیا وار جب اس نے تیر نظر سے

 کِیا وار جب اس نے تیرِ نظر سے 

اک اک رِند بولا اِدھر سے اِدھر سے

جو پوچھا کہ تم تھے کہاں رات بھر سے

پڑی کھینچ کر دو، اِدھر سے اُدھر سے

برآمد ہوئے ہو رقیبوں کے گھر سے

کدھر کے تھے تم اور مِلے ہو کدھر سے

گزر کر رہا تیر میرے جگر سے

لگایا نشانہ انہوں نے جدھر سے

ذرا بیٹھیۓ فاصلہ رکھ کر صاحب

کہیں جُڑ نہ جائے کمر بھی کمر سے

خدا جانے کیا لکھ دیا ہم نے خط میں

محبت انہیں جو ہو گئی نامہ بر سے

وہ بسمل کا درجہ تو دیں مجھ کو یا رب

جبیں رنگ لوں گا میں خونِ جگر سے

پلٹ کر جو دیکھا تو شرما کے بولے

نظر لگ نہ جائے ہمیں اس نظر سے

شبِ وصل ان کی وہ سرمستی توبہ

لیے بوسے ہم نے اِدھر سے اُدھر سے

نگاہیں نہ پھیرو، عبارت نہ پلٹو

بتاؤ ملا ہے نیا دل کدھر سے

پسینہ نہ ایسے وگرنہ ٹپکتا

کسی کا تو یارانہ ہے اس کمر سے

سمے لے لیا ہے، سکوں لے لیا ہے

بلائیں بھی لے لے کوئی میرے سر سے

مزا ہو جو تیرِ نظر وہ چلائیں

تڑپ کر کہوں میں؛ اِدھر سے اِدھر سے

اسی رہگزر پر مِلی خاک اپنی

گزرتا ہے جبریل جس رہگزر سے 

درود اس دِوانے کی قسمت پہ حمزہ

جسے موت آ جائے تِرچھی نظر سے


حمزہ عمران

No comments:

Post a Comment