عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منقبت بر مولا علیؑ
شریف ابنِ مہدی
میں جس روز کوفہ میں اُترا
وہ دن روشنی کے نہیں تھے
سیاہی کے ڈر سے شبیں ہونکتی تھیں
دنوں کی سفیدی بگولوں کی گردش میں پِس کر غبارِ نظر ہو گئی تھی
شریف ابنِ مہدی میں گھوڑوں کا تاجر عباد ابنِ لُوقا
کئی نسلی تازہ سُموں کو درِ کوفہ پر لے کے پہنچا تو گھبرا گیا
شہر کا شہر صدیوں پرانے کھنڈر کا ہیولا
ہیولا ڈراتا تھا مجھ کو
مِرے چار سُو اُڑ رہے تھے ابابیل نوحہ گری کے
محلوں کے اطراف و بازار میں خاک اوندھی پڑی تھی
میں حیران و آشفتہ سر
شہرِ کوفہ کو یوں دیکھتا تھا
وہاں جیسے کوئی دیو پھر گیا ہو
قسم ابنِ مریم کے جوتوں سے باندھے ہوئے چرمی تسموں کی مجھ کو
کسی شخص نے مجھ سے اس دن فرس کی کوئی نعل تک بھی نہ پوچھی
میں اِک چوک سے دوسرے چوک تک یوں سراسیمہ دوڑا
کہ دیکھوں کسی شخصِ ذی روح کو بات کرتے ہوئے
مسکراتے ہوئے کوچہ بازار میں کاروبارِ معیشت میں مصروف ہو کر
مگر لوگ سایوں کی مانند خاموش و لرزاں
نہ آہن گروں کے ہتھوڑوں کی ضربیں
نہ بھٹی میں شعلے، نہ لوہے کا سُرخ و سیہ کارخانہ
نہ تیغ و تفنگ اور تیروں کی صنعت
نہ بصرہ و موصل کی جانب چڑھائی کے قصے
نہ اشتر کی تلوار و تبر کی باتیں
یہ کوفہ تھا یا کوئی شہرِ خموشاں ہزاروں برس کا کھنڈر ہو گیا تھا
شریف ابنِ مہدی
میں حیران گردی کی تصویر بن کر
کبھی اِک قبیلے کی جانب گیا اور کبھی دوسرے کے قبیلے کی جانب
ہوازن، ثقیف اور ہمدان و کندہ سے لے کر نہ طائی قبیلہ
یہ سب لوگ اپنے گریبان و دستار سے بے خبر
سر کھلے، خاک آلودہ چہروں پہ خشکی
کھجوروں کے باغات و کھیتی و دریا سبھی زیرِ گریہ
شریف ابن مہدی
مجھے شہرِ کوفہ کے دیوار و در نے خبر دی
کہ محرابِ مسجد میں کچھ روز پہلے
شقی ابن ملجم کی تیرہ روی نے رگِ نور کو کاٹ ڈالا
عرب کا مسافر خلیفہ
تمہارے پیعمبرﷺ کا مظلوم بھائی
وہ ہارونِ دینِ محمدﷺ
مدینے کے اشراف و اکبار کا جو ستایا ہوا
مہاجر علی ابن عمراں
حرم جس کا مؤلد تھا وہ ابنِ کعبہ
جو محرابِ مسجد میں زہرِ قضا سے بجھی تیغ کا وار کھا کر
سلونی سلونی کا مالک شہیدِ رضائے الٰہ ہو گیا ہے
وہ مکہ کی وادی سے ہجرت کا راہی، مدینہ کا صابر
وہ کوفہ کا باسی ،نجف کے دیاروں کا ساکن ہوا ہے
قسم لوحِ انجیل پر ان کھدی آیتوں کی
جنہیں ابن مریم نے آغوشِ مادر سے
پہ آویزاں ہونے تلک یوں تلاوت کیا تھا
کہ اہلِ زبور اب تلک ناز خواں ہیں
یہ کون و مکاں کے پس و پیش کا وہ عالم علیؑ تھا
جسے میں نے اک روز کوفہ کی مسجد کے منبر پہ گوہر فشانی میں دیکھا
سرِ ناز پر تھی امامت کی دستار، پہلو میں لٹکی ہوئی تیغِ دو سر تھی اس کے
سیہ رنگ ریشوں کے بھاری عمامے کو دائیں طرف سے دیے پیچ
شانوں پہ تطہیر کی اک عبا تھی
کھجوروں کے پتوں کی خاکی چٹائی بچھی اس کے قدموں کے نیچے
وہ منبر پہ بیٹھا رموزِ زمان و مکان کھولتا جا رہا تھا
کہ جیسے سرِ تیغ سے کھولتا تھا بڑے سُورماوں کے زرہوں کی کڑیاں
زبان اس کی دیتی چلی جا رہی تھی جہانوں کی خبریں
جہانوں سے آگے تلک لا مکانوں کی خبریں
وہ ایسے کیے جا رہا تھا بیاں روزِ خلقت کا جیسے وہی اس کا خالق ہو
یا خالقِ حق کی ہو وہ مشیت کا مالک
ازل و ابد کا وہی تنہا شاہد ہو، سبز و سپیدی کا صناع
شریف ابن مہدی
اسی روز مجھ پر یہ عقدہ کھلا تھا
یہی ابن مریم کے اس ہاتھ کا ناصرِ اولیں ہے
جسے معجزوں کی حکومت ملی تھی
جسے لمس حکمِ شفا کی عطا تھی
یہی ہے براہیمؑ و اسحاقؑ و موسیٰؑ کا وارث
یہی ذکریاؑ اور یحییٰؑ کا ضامن
شریف ابن مہدی
یہ پچھلے برس کا زمانہ تھا جب کوفہ بستا ہوا اک نگر تھا
یہ کوفہ عراقِ عرب اورعجم کا تھا دولہا
یہاں کے کشادہ دروں سے پھریرے اُڑاتے ہوئے جنگجو
نکلتے تھے شام اور بصرہ کی جانب
کبھی لوٹتے تھے اُٹھائے ہوئے کامرانی کے جھنڈے
شریف ابنِ مہدی یہ پچھلے برس تھا کوفہ
میں اُس روز بھی اعلیٰ نسلوں کے گھوڑے سواد عجم سے وہاں لے گیا تھا
کہ کوفہ کے جنگ جو قبیلوں سے دینار و درہم سمیٹوں
اسی لُعبِ دنیا میں کوفہ کے مرکز میں باندھے کئی تازی گھوڑے
کہ بیچوں اِنہیں اُس منافع کی خاطر جو تاجر کے دل کو شفا بخش دے
مگر ابنِ مہدی میں گھوڑوں کا تاجر عباد ابنِ لوقا
کھنچا جاتا تھا اپنے گھوڑوں سے بیگانہ ہو کر
اُسی بابِ ثوبان کی سمت پانی کی صورت
جہاں سے گزر کر گیا جِنِ اژدر
میں دنیا کا تاجر
علی ابنِ عمراں کے لہجے کے صدق و صفا میں تجارت کے اسرار کو بھول بیٹھا
کھڑا دیکھتا تھا میں قرآنِ ناطق کو نطقِ صفا سے محمدﷺ کے دیں کی شرح کھولتے
آہ، کیا دن تھے جب میں نے اس انبیا کے امیں کی خطابت سُنی تھی
مگر ابنِ مہدی وہ دن کس قدر جلد رخصت ہوئے اور یہ دن آ گئے ہیں
کہ اس بار کوفہ میں گرد و غبار اور آندھی کے جُز کچھ نہیں تھا
فقط اڑ رہے تھے وہاں بھوت نوحہ گری کے
مکانوں کے کنگرے گرے تھے شہابوں کی صورت
شبوں کے ستاروں میں کرنیں نہیں تھیں
دِنوں کے اُجالوں میں رونق نہیں تھی
نہ کوفہ کی راہوں میں سبزہ
نہ کوفہ کے آباد تھے قہوہ خانے
نہ کوفہ کی اونچی سراوں میں کوئی مسافر
نہ کوفہ کے دریا میں پانی
نہ کوفہ کے سینے میں کوئی حرارت بچی تھی
شریف ابنِ مہدی
قیامت تلک اب یہ کوفہ نہیں بس سکے گا
علی اکبر ناطق
No comments:
Post a Comment